جن لوک پال بنانے میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے.
آخر جن لوک پال ڈرافٹ کمیٹی کی مشترکہ میٹنگ ایک بار پھر ناکام ہو گئی .حکومت کے نمایندوں اور سول سوسایٹی کے اراکین کی درمیان اختلاف برقرار رہا اور کوئی مفاہمت نہ ہو سکی .اس ناکامی کا خاص سبب یہ ہے کہ حکومت بذات خود جن لوک پال بل بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے .حکومت نہیں چاہتی کہ بد عنوان اور رشوت خور وزرا، اراکین پارلیمنٹ اور اعلی عہدے داران اس قانون کی گرفت میں آیئں .جب وزرا اوراعلیٰ عہدیداران بد عنوان نہیں ہیں تو جن لوک پال بل کے دائرہ اختیار میں لانے پر واویلا کیوں ؟ دوسری جانب انا ہزارے نے یہ اعلان کر دیا ہے کو وہ ١٦ اگست سے بھوک ہڑتال کریں گے .جب قانون ساز ادارے ملک میں موجود ہیں تو انا ہزارے جیسے لوگوں کو قانون بنانے کا اختیارکس طرح حاصل ہے. آج لوک پال بل بنانے کے لئے حکومت کو مجبور کیا جا رہا ہے. تو کل کسی اور مسئلہ کے لئے بھی اسی طرح حکومت کو مجبور کیا جا سکتا ہے . فی الحال سب سے اہم مسئلہ بابری مسجد کے مقام پر مندرتعمیر کرنے کا ہے.ہو سکتا ہے کہ کل اسی طرح کا دباؤ ڈالا جا سکتا ہے اس لیے سیکولر قوتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے.اگر طرح دباؤ میں آ کر قوانین بنا ے جاتے رہے تو لا قانونیت پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاےگا . اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ایسا قانون بنایا جائے جہاں کوئی قانون سے با تر نہ ہو اور ہر ایک پر گرفت کی جا سکے . کیا ایسا ممکن ہے ؟
آخر جن لوک پال ڈرافٹ کمیٹی کی مشترکہ میٹنگ ایک بار پھر ناکام ہو گئی .حکومت کے نمایندوں اور سول سوسایٹی کے اراکین کی درمیان اختلاف برقرار رہا اور کوئی مفاہمت نہ ہو سکی .اس ناکامی کا خاص سبب یہ ہے کہ حکومت بذات خود جن لوک پال بل بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے .حکومت نہیں چاہتی کہ بد عنوان اور رشوت خور وزرا، اراکین پارلیمنٹ اور اعلی عہدے داران اس قانون کی گرفت میں آیئں .جب وزرا اوراعلیٰ عہدیداران بد عنوان نہیں ہیں تو جن لوک پال بل کے دائرہ اختیار میں لانے پر واویلا کیوں ؟ دوسری جانب انا ہزارے نے یہ اعلان کر دیا ہے کو وہ ١٦ اگست سے بھوک ہڑتال کریں گے .جب قانون ساز ادارے ملک میں موجود ہیں تو انا ہزارے جیسے لوگوں کو قانون بنانے کا اختیارکس طرح حاصل ہے. آج لوک پال بل بنانے کے لئے حکومت کو مجبور کیا جا رہا ہے. تو کل کسی اور مسئلہ کے لئے بھی اسی طرح حکومت کو مجبور کیا جا سکتا ہے . فی الحال سب سے اہم مسئلہ بابری مسجد کے مقام پر مندرتعمیر کرنے کا ہے.ہو سکتا ہے کہ کل اسی طرح کا دباؤ ڈالا جا سکتا ہے اس لیے سیکولر قوتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے.اگر طرح دباؤ میں آ کر قوانین بنا ے جاتے رہے تو لا قانونیت پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاےگا . اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ایسا قانون بنایا جائے جہاں کوئی قانون سے با تر نہ ہو اور ہر ایک پر گرفت کی جا سکے . کیا ایسا ممکن ہے ؟
اسلام علیکم / آداپ
ReplyDeleteقانون بنے یا نہ بنے مگر ہندوستانی عوام چل پڑی لوک پال کے راستے۔بس انتظار ہے عوام کو پدلنے کو۔جو کہ مشکل ہے آج کے دور میں،،، وجہ ہے جھوٹ جو کہ ہماری نسوں میں خون کی طرح دوڈ رہا ہے ۔۔جھوٹ سے جنم لیا ہے رشوت نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھوٹ کے بازار میں ہر سچائی۔۔۔۔۔۔۔۔ملامت کی چادر اوڑھ کر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
aminjk12@gmail.com