Thursday, 23 June 2011

جن لوک پال بنانے میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے.
آخر جن لوک پال ڈرافٹ کمیٹی کی مشترکہ میٹنگ ایک بار پھر ناکام ہو گئی .حکومت کے نمایندوں اور سول سوسایٹی کے اراکین کی درمیان اختلاف برقرار رہا اور کوئی مفاہمت نہ ہو سکی .اس ناکامی کا خاص سبب یہ ہے کہ حکومت بذات خود جن لوک پال بل بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے .حکومت نہیں چاہتی کہ بد عنوان اور رشوت خور وزرا، اراکین پارلیمنٹ اور اعلی عہدے داران اس قانون کی گرفت میں آیئں .جب وزرا  اوراعلیٰ عہدیداران بد عنوان نہیں ہیں تو جن لوک پال بل کے دائرہ اختیار میں لانے پر واویلا کیوں ؟ دوسری جانب انا ہزارے نے یہ اعلان کر دیا ہے کو وہ ١٦ اگست سے بھوک ہڑتال کریں گے .جب قانون ساز ادارے ملک میں موجود ہیں تو انا ہزارے جیسے لوگوں کو قانون بنانے کا اختیارکس طرح حاصل ہے. آج لوک پال بل بنانے کے لئے حکومت کو مجبور کیا جا رہا ہے. تو کل کسی اور مسئلہ کے لئے بھی اسی طرح حکومت کو مجبور کیا جا سکتا ہے . فی الحال سب سے اہم مسئلہ بابری مسجد کے مقام پر مندرتعمیر کرنے کا ہے.ہو سکتا ہے کہ کل اسی طرح کا دباؤ ڈالا جا سکتا ہے اس لیے سیکولر قوتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے.اگر طرح دباؤ میں آ کر قوانین بنا ے جاتے رہے تو لا قانونیت پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاےگا . اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ایسا قانون بنایا جائے جہاں کوئی قانون سے با تر نہ ہو اور ہر ایک پر گرفت کی جا سکے . کیا ایسا ممکن ہے ؟

Tuesday, 21 June 2011

Ahsan ki kaamyabi

 بھیونڈی کے طالب علم مومن احسن محمد اسلام نے اس سال ایس ایس سی امتحان مارچ ٢٠١١ میں معذوروں کی کیٹگری میں ٨٥ فی صدی مارکس حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے . احسن چہارم جماعت تک ایک عام طالب علم کی طرح اسکول جاتا تھا لیکن اس کے بعدا س کو ڈی ایم ڈی نامی بیماری لاحق ہو گئی جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا حتی کہ وہ ہاتھ سے کوئی کام بھی نہیں کر سکتا .اس نے ایس ایس سی تک کی پڑھائی بستر پر رہتے ہوئے کی .بنا کسی کوچنگ اور ٹیوشن کے اس نے ایس ایس سی کا امتحان ٨٥ فی صدی نمبروں سے کامیاب کیا .اس کے اہالیان خانہ نے اس کی بھر پور مدد کی اور اس کا خیال رکھا اس لیے اس کامیابی پر گھر میں خوشی کا ماحول ہے.احسن کو ٹی وی پر کرکٹ دیکھنے کا بہت شوق ہے.بیشتر اوقات وہ اپنا وقت مو بائیل پر گیم کھیلنے میں گزارتا ہے .احسن کی کامیابی ان لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو معذوری ، غریبی یا کوئی اور بہانا بنا کر پڑھائی سے جی چراتے ہیں .

 بھیونڈی کے طالب علم مومن احسن محمد اسلام نے اس سال ایس ایس سی امتحان مارچ ٢٠١١ میں معذوروں کی کیٹگری میں ٨٥ فی صدی مارکس حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے . احسن چہارم جماعت تک ایک عام طالب علم کی طرح اسکول جاتا تھا لیکن اس کے بعدا س کو ڈی ایم ڈی نامی بیماری لاحق ہو گئی جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا حتی کہ وہ ہاتھ سے کوئی کام بھی نہیں کر سکتا .اس نے ایس ایس سی تک کی پڑھائی بستر پر رہتے ہوئے کی .بنا کسی کوچنگ اور ٹیوشن کے اس نے ایس ایس سی کا امتحان ٨٥ فی صدی نمبروں سے کامیاب کیا .اس کے اہالیان خانہ نے اس کی بھر پور مدد کی اور اس کا خیال رکھا اس لیے اس کامیابی پر گھر میں خوشی کا ماحول ہے.احسن کو ٹی وی پر کرکٹ دیکھنے کا بہت شوق ہے.بیشتر اوقات وہ اپنا وقت مو بائیل پر گیم کھیلنے میں گزارتا ہے .احسن کی کامیابی ان لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو معذوری ، غریبی یا کوئی اور بہانا بنا کر پڑھائی سے جی چراتے ہیں .