ملک رشوت اور بد عنوانی کی دلدل میں پھنس چکا ہے. روزانہ نت نے گھپلے کی خبریں اخباروں میں آتی رہتی ہیں .ایک معمولی ملازم سے لے کر ایک اعلیٰعہدیدارسب اس میں شامل ہیں .عوام ان خبروں سے اوب چکے ہیں اسی دوران بیرونی ممالک سے جو خبریں مل رہی ہیں ان کے مطابق وہاں عوامی تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے اورجس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جن کا اثر ہمارے ملک میں پڑنا لازمی ہے وہ دن دور نہیں تھا کہ لوگ سڑکوں پر نکل کر قانون اپنے ہاتھوں میںلے لیتے اور رشوت خوروں کو سر عام سزا دیتے ایسے نازک دور میں انا ہزارے نے رشوت خوری اور بد عنوانی کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا. اس تحریک کو عوامی مقبولیت حاصل ہوتی جارہی ہے .حکومت نے وزراء پر مشتمل ایک گروپ کی تشکیل کر دی تا کہ عوام کے غصّے کو قابو میں کیا جا سکے اس سے قبل بھی کئی بار اس طرح کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں.اس گروپ میں اکثریت ان وزرا کی ہے جو خود رشوت اور بد عنوانی میں ملوث ہیں.ظاہر ہے یہ اپنے بچاوکے لئے قانون بناتے نہ کہ اپنے آپ کو سزا دینے کے لئے .اس لئے انا ہزارے کا یہ فیصلہ درست ہے کہ رشوت خور وزرا پہلے استعفیٰ دیں اور جن لوک پال بل عوامی نمائندے بنائیںتا کہ قصور وار افسروں اورا علیٰ عہدیدار وں کو کیفر کردار تک پہنچا یا جا سکے .
ہم سب کو چاہیے کہ ہم انا ہزارے کی بھرپور حمایت کریں اور جن لوک پال بل کی پر زور تائید کریں اور ملک سے کرپشن جیسی لعنت کو ختم کرنے میں معاون و مدد گار ہوں . ملک مومن