Thursday, 7 April 2011

ملک رشوت اور بد عنوانی کی دلدل میں پھنس چکا ہے. روزانہ نت نے گھپلے کی خبریں اخباروں میں آتی رہتی ہیں .ایک معمولی ملازم سے لے کر ایک اعلیٰعہدیدارسب اس میں شامل ہیں .عوام ان خبروں سے اوب چکے ہیں اسی دوران بیرونی ممالک سے جو خبریں مل رہی ہیں ان کے مطابق وہاں عوامی تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے اورجس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جن کا اثر ہمارے ملک میں پڑنا لازمی ہے وہ دن دور نہیں تھا کہ لوگ سڑکوں پر نکل کر قانون اپنے ہاتھوں میںلے  لیتے اور رشوت خوروں کو سر عام سزا دیتے ایسے نازک دور میں انا ہزارے نے رشوت خوری اور بد عنوانی کے خلاف جنگ  چھیڑ دی اور بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا. اس تحریک کو عوامی مقبولیت حاصل ہوتی جارہی ہے .حکومت نے وزراء پر مشتمل ایک گروپ کی تشکیل کر دی تا کہ عوام کے غصّے کو قابو میں کیا جا سکے اس سے قبل بھی کئی بار اس طرح کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں.اس گروپ میں اکثریت ان وزرا کی  ہے جو خود رشوت اور بد عنوانی میں ملوث ہیں.ظاہر ہے یہ اپنے بچاوکے لئے قانون بناتے نہ کہ اپنے آپ کو سزا دینے کے لئے .اس لئے انا ہزارے کا یہ فیصلہ درست ہے کہ رشوت خور وزرا پہلے استعفیٰ دیں اور جن لوک پال بل عوامی نمائندے بنائیںتا کہ قصور وار افسروں اورا علیٰ  عہدیدار وں کو کیفر کردار تک پہنچا یا جا سکے .
      ہم سب کو چاہیے کہ ہم انا ہزارے کی بھرپور حمایت کریں اور جن لوک پال بل کی پر زور تائید کریں اور ملک سے کرپشن جیسی لعنت کو ختم کرنے میں معاون و مدد گار ہوں . ملک مومن
  

1 comment:

  1. یقیناً ہم سب کو اس بارے میں سنجیدہ ہو کر سوچنے کے دن آ چکے ہیں. رشوت اور بدعنوانیوں نے ہمارے ملک کا حال برا کر دیا ہے. جس ملک کو اب تک ایک عالمی طاقت بن جانا چاہیے تھا وہ دنیا کی سامراجی طاقتوں کے در پر جبیں سائی کرتا آیا ہے. شببر احمد راہی صاحب نے اندرا گاندھی کے وقت ہی میں بجا تنقید کی تھی کہ:
    یہ کہہ کے اک جواز مہیا کیا گیا
    رشوت کہاں نہیں ہے کہ درماں کریں گے ہم
    مبارک ہو کہ آپ نے بھی اپنا احتجاج صحیح رخ میں درج کیا ہے. ہم سب ساتھ ہیں. اور یہ بات بھی کہ "انا ہزارے آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں.
    ڈاکٹر ریحان انصاری.

    ReplyDelete